
ترکے کی مالیت اور زندہ ورثاء درج کریں، اور علمِ فرائض کے مطابق ہر وارث کا حصہ دیکھیں: مقررہ حصے، عصبات، حجب، عول، رد اور ذوی الارحام، ہر حصے کی وجہ کے ساتھ۔
صرف وہی رشتہ دار منتخب کریں جو وفات کے وقت زندہ تھے۔
امام ابو یوسفؒ کے قول پر حساب۔ یہ صرف اس وقت وارث ہوتے ہیں جب (میاں بیوی کے علاوہ) کوئی صاحبِ فرض یا عصبہ نہ ہو۔